بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنی آیات میں بظاھر تعارض کی بات کرنے کا حکم

سوال

زید جو کہ عالم نہیں ہے اس کی زبان سےباتوں باتوں میں انجانے میں یہ الفاظ نکل جائیں کہ :" ٹکراؤ توبظاھر قران کی بعض آیتوں میں بھی ہے"( دل میں یہ ہو کہ حقیقتا کوئی ٹکراؤ نہیں، اسی لئے اس نے بظاہر کا لفظ کہا)۔ اس کے جواب میں بکر کہے :"جیسے ناسخ و منسوخ"؟۔ اس پر زید کہے :"ہاں".پھر اگلے ھی لمحہ اسے یہ احساس ہوا کہ اسے ایسی بات نہیں کہنی چاہئیے تھی اور ندامت کے ساتھ استغفار کرے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ھے ؟ کیا اسے تجدید ایمان کے ساتھ تجدید نکاح بھی کرنا ھوگا؟

جواب

محض سطحی انداز سے دیکھنے اور غوروتدبر سے کام نہ لینے کی صورت میں قرآن کی بعض آیات ٹکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں،اس لئےمذکورہ جملہ كہنے کی بنا پر زید گناہ گار نہیں ہوا اور تجدید ایمان کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ زید نے جملہ بھی محتاط استعمال کیا ہے کہ بظاہر قرآن کی آیا ت میں ٹکرآ و ہے یعنی حقیقی ٹکراو وہ بھی نہیں سمجھتا ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143511200001
تاریخ31-08-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں