بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کا بجائے بھائی کے گھر کے، دیور کے گھر رہنا

سوال

ایک عورت جس کی عمر چالیس سال ہے، بیوہ ہوگئی ہے، بے اولاد ہے، اس عورت کے خاوند کے مرنے کے بعد دیوروں کے گھر رہنے میں دینی ماحول کے حوالے سے کئی فوائد ہیں، مثلا: اس کی ہر لحاظ سے حفاظت ہے، اور پردے کے ساتھ ساتھ ضروریات کی کفالت بھی بہتر انداز سے ہوسکتی ہے، جب کہ ان کے اپنے بھائیوں کے گھر میں دینی ماحول کی پابندی نہیں ہے، اکثر بھائی صوم وصلاۃ کے پابند بھی نہیں ہیں، تو عورت کے لیے مستقبل میں دین کے ماحول کو باقی رکھنا بہت مشکل ہے، اس صورت میں یہ عورت دیوروں کے ساتھ گھر میں خاوند کی وفات کی عدت کے بعد زندگی گزارے تو شرعی اعتبار سے کوئی حرج تو نہیں ہے؟ اور یہ فیصلہ بیوہ بغیر کسی جبر، اپنے اختیار سے کر رہی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر پردہ اوردیگر شرعی حدود کی رعایت ممکن ہے تو بیوہ  مذکورہ گھر میں رہ سکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143510200034
تاریخ21-08-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں