بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی رقم سے دعوت کاحکم؟ حرام مال کا دعوت میں استعمال

سوال

پیسے جمع کرکے اجتماعی دعوت کرنے کا کیاحکم ہے جیسے الوداعی پارٹی وغیرہ؟اگراس میں کسی کی حرام کمائی ہوتو اس کا کیاحکم ہے؟

 
 

جواب

اگردعوت کے تمام شرکاء اپنی رضامندی سے اورطیب نفس سے پیسے اکٹھے کریں ،کسی کومجبورنہ کیا جائےاورنہ دینے کی صورت میں کسی کو ملامت بھی نہ کیاجائے تواجتماعی دعوت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگرحرام کمائی ہوتواس صورت میں غالب مال کااعتبار ہوگا اگرغالب مال حلال ہے تودعوت میں شرکت کی جاسکتی ہے۔ البتہ جس شخص کے بارے میں معلوم ہوکہ اس کی آمدنی حرام ہے تو اس کی حرام کمائی کا دعوت میں استعمال جائزنہیں۔(ھندیہ:الباب الثانی عشر فی الھدایا 5/343،ط:رشیدیہ)

 
 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143510200031
تاریخ18-08-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں