بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان کا روزہ چھوڑنے اور توڑنے کا حکم

سوال

رمضان کا روزہ بلا عذر جان بوجھ کر نہ رکھنے یا رکھ کر توڑ دینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

۱: رمضان کا روزہ بلاعذر جان بوجھ کر چھوڑ دینا انتہائی کم قسمتی اور محرومی کی بات ہے، بلاعذر چھوڑے گئے روزوں کی قضا ضروی ہے۔۲: رمضان کا روزہ رکھ کر جان بوجھ کر توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔ کفارہ یہ ہے کہ یا تو دو ماہ مسلسل روزے رکھے جائیں، اور اگر ضعف و کمزوری کی وجہ سے دو ماہ مسلسل روزے رکھنا کی بالکل استطاعت نہ ہو، تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے۔ چاہے دو دن ایک وقت کھلایا جائے، چاہے ایک غریب کو ساٹھ دن تک دو وقت کھانا کھلایا جائے۔ واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143510200013
تاریخ18-08-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں