رمضان کا روزہ چھوڑنے اور توڑنے کا حکم
سوال
رمضان کا روزہ بلا عذر جان بوجھ کر نہ رکھنے یا رکھ کر توڑ دینے کا کیا حکم ہے ؟
جواب
۱: رمضان کا روزہ بلاعذر جان بوجھ کر چھوڑ دینا انتہائی کم قسمتی اور محرومی کی بات ہے، بلاعذر چھوڑے گئے روزوں کی قضا ضروی ہے۔۲: رمضان کا روزہ رکھ کر جان بوجھ کر توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔ کفارہ یہ ہے کہ یا تو دو ماہ مسلسل روزے رکھے جائیں، اور اگر ضعف و کمزوری کی وجہ سے دو ماہ مسلسل روزے رکھنا کی بالکل استطاعت نہ ہو، تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے۔ چاہے دو دن ایک وقت کھلایا جائے، چاہے ایک غریب کو ساٹھ دن تک دو وقت کھانا کھلایا جائے۔ واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143510200013
تاریخ18-08-2014

