بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کفارے کے روزوں میں تسلسل کا حکم

سوال

کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ کفارہ کے روزے رکھتے ہوئے اگر درمیان میں وقفہ آ جائے تو پھر سے ابتدا کرنے کی بجائے باقی روزے رکھ لئے جائیں اور رہ جانے والے روزوں کی قضا کر لی جائے ؟

جواب

سوائے عذر حیض کے، اور کوئی ایسا عذر ایسا نہیں جس کی وجہ سے کفارے کے روزوں میں وقفہ آجانے کی بنا پر ایسی کوئی گنجائش ہو۔ کسی بھی عذر کے باعث اگر روزوں کے تسلسل میں وقفہ آگیا تو یہ گنتی دوبارہ شروع کرنے پڑے گی۔ واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143510200008
تاریخ18-08-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں