سونا اور نقدی دونوں پونے کی صورت میں زکوۃ
سوال
میری بیوی کے پاس ڈھائی تولہ سونا ہے، اس کے علاوه کچھ بسترے اور برتن ہیں جو سارا سال ہمارے استعمال میں نہیں آتے، نقدی رقم بہت زیادہ ہو تو پانچ سو یا ہزار روپے ہوگی جو سارا سال ہمارے پاس رہتی ہے۔ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ کیا ہم پر زکوٰة فرض ہے۔ اگر فرض ہے تو مسئلہ کی تھوڑی وضاحت بھی فرمادیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
جواب
جیسا کہ آپ نے ذکر کیا کہ آپ کی بیوی کے پاس ڈھائی تولہ سونا ہے اور نقدی کی رقم بھی، چاہے پانچ سو یا ہزار ہی سہی، موجود ہے۔ ان دونوں کو ملا کر، ان کی قیمت لگا کر، ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب پورا ہوجانے کی وجہ سے، زکوۃ واجب ہو گی، اس قیمت کا چالیسواں حصہ ادا کریں۔ بستر اور برتن چونکہ ضروریات کی چیزیں ہیں اس لیے ان کی مالیت پر زکوۃ نہیں ہے۔ واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143510200002
تاریخ18-08-2014

