بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض کے لین دین کے جواز کے لیے ایک حیلہ

سوال

دوران کاروبار ہمیں قرض کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم ایک حیلے کے ذریعے قرض کا لین دین کرتے ہیں۔ طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ماہ کے لیے ہم دس لاکھ روپے قرض لیتے ہیں، اور ساتھ ہی ایک قلم خرید لیتے ہیں، جس کی مارکیٹ ویلیو تو دس روپے ہے، لیکن خریدتے بیس ہزار روپے میں ہیں، جب ایک ماہ بعد ایک لاکھ لوٹاتے ہیں، تو ساتھ ہی قلم کی قیمت یعنی بیس ہزار بھی واپس کرتے ہیں۔

جواب

یہ سود کو حلال کرنے کا حیلہ ہے، اس لیے ایسا حیلہ کرنا جائز نہیں۔قرض دینا والا قرضہ کے بدلے مہنگے داموں قلم کی فروختگی کی صورت میں نفع اٹھا رہا ہے اور یہی قرض پر نفع اٹھانا ہے جو کہ حدیث کی رو سے ناجائز ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143509200066
تاریخ27-07-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں