والدہ، شوھر،چار بھائیوں اور تین بیٹوں میں میراث کی تقسیم
سوال
ایک خاتون کا انتقال ہوگیا، ورثا میں والدہ، شوہر، 4 بھائی اور 3 بیٹے ہیں، مرحومہ پر کوئی قرض نہیں تھا نہ ہی کوئی وصیت کی ہے، میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟
جواب
مذکورہ صورت میں مرحومہ کے ترکہ کو چھتیس(36) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، اور چھے حصے مرحومہ کی والدہ کو، نو حصے شوھر کو اور سات سات حصے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے، شرعا بھائیوں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں۔ واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143509200057
تاریخ17-07-2014

