بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل کیمرے سے لی گئی تصویر کا حکم

سوال

تصویر کھینچنا تو بہت بڑا گناہ ہے اور اس بہت عذاب بھی ہے، لیکن جو تصویر ڈیجیٹل کیمرے سے لی گئی اور اس کو براہ راست کمپیوٹر یا موبائل میں سوفٹ کاپی کی صورت میں رکھا جائے تو کیا وہ بھی غلط ہے؟ کیوں کہ جو تصویر پکسلز کی صورت میں ہو، وہ تو بس اس وقت تک رہتی ہے جب تک کمپیوٹر یا موبائل یا اس طرح کا کوئی بھی الیکٹرونک آئٹم کھلا ہوا ہو، اور اس کے بند ہوتے ہی، وہ تصویر ختم ہو جاتی ہے۔

جواب

کسی بھی جاندار کی تصویر کھینچنا یا بنانا، چاہے اس کھینچنے یا بنانے کے لیے کوئی سا آلہ استعمال کیا جائے، ناجائز اور حرام ہے۔ اہل علم و اہل فتوی کی ایک بڑی تعداد کی تحقیق کے مطابق تصویر کے جواز وعدم جواز کے بارےمیں ڈیجیٹل اور غیر ڈیجیٹل کی تقسیم شرعی نقطہ نظر سے ناقابل اعتبار ہے۔ الیکٹرنک آلہ بند کرنے سے تصویر تحلیل ہوجاتی ہے مگر مواد موجود رہتا ہے اور کمانڈ دینے سے پھر آ موجود ہوتا ہے ،پس جب اصل غلط ہے تو اس کا مواد محفوظ رکھنا بھی غلط ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143509200034
تاریخ15-07-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں