بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں احتلام اور شہوت کے ساتھ کسی کو چھونے کا حکم

سوال

ایک شخص نے روزے کی حالت میں سوتے ہوئے یا شہوت زیادہ ہونے کی صورت میں اپنے ساتہی دوست جو سویا ہوا تھا اپنا پاؤں ڈالا اور احتلام ہوگیا تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے فرض روزہ ہو یا نفلی؟

جواب

سوتے ہوئے احتلام ہوجائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔بیداری میں کسی کے جسم چھونے سے انزال ہو گیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا،صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔نفلی اور فرض دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔واضح رہے کہ اگر جان بوجھ کر شہوت سے ساتھی پر پاوں ڈالا تھا اور پھر انزال ہوا تو گناہ گار بھی ہوا تاہم روزے کی صرف قضا لازم ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143509200024
تاریخ29-06-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں