بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنی آیات سے علاج معالجہ کا حکم

سوال

محترم مفتی صاحب السلام علیکم کے بعد عرض یہ ھے کہ بقول ڈاکٹر حضرات مجھے پھیپھڑوں میں کینسر کی شکایت ھے۔ میں انگریزی ادویات سے نہایت الرجک ھوں۔ میں آپ سے پوچھنا چاھتا ھوں کہ کیا کوئ ایسا اللہ کا بندہ ھے جو اس کیس کو آیات قرآنی کے زریعے دم وغیرہ کرکے میرا علاج کرے؟ اور کیا ایسا علاج اختیار کرنا قرآن و سنت کے اعتبار سے غلط تو نہیں؟ دعاؤں کا طالب عبدالباسط

جواب

قرآنی آیات کے ذریعہ علاج معالجہ جائز ہے ، مختلف لوگ اس خدمت میں مصروف ہیں، کسی مخصوص فرد کی طرف رہنمائی سے بوجوہ ہم معذور ہیں، بالمشافہ کسی عالم دین سے مل کر رھنمائی لی جاسکتی ہے۔واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143509200020
تاریخ20-07-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں