بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ جانور کی قربانی

سوال

سوال:ڈاکٹری معائنہ سے پتہ چل جائے کہ جانور حاملہ ہے اور اس جانورکا جنین مرچکا ہے تواس جانور کو ذبح کرنے کا کیا حکم ہے؟ اگر جنین زندہ ہو تو کیا پھر حاملہ کو ذبحہ کرنا جائز ہو گا؟

جواب

جس جانور کے پیٹ میں بچّہ ہو (زندہ یا مردہ) اس کا ذبح کرنا جائز ہے البتہ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کوذبح کرنا مکروہ ہے،اوراگر یہ جانور قربانی کا ہے تو ذبح کے بعد جو بچہ نکلےاس کو بھی ذبح کیا جائیگا،اس کا کھانا حلال ہے، اور اگر مردہ نکلے تو اس کا کھانا درست نہیں، اور اگر ذبح کرنے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143509200019
تاریخ17-07-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں