بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامي بينك ميں ملازمت كاحكم

سوال

اگرمجھے كسى اسلامك بينك يا جيسے ميزان بينك ميں جاب مل رهي هوتو كيا ميں جاب كرسكتاهوں؟ اس ميں كوئي سود كى بات تو نهيں هے؟ برائے مهربانى مجھے اس مسئلے كاجواب جلد از جلد ديں. شكريه

جواب

، مروجہ اسلامی بینکوں کا طریقہ تمویل اكثر اہلِ فتویٰ كى اب تك كى تحقيق كے مطابق اسلامی اور غیر سودی نہیں ہے بلکہ کئی سودی اور غیری اسلامی معاملات پر مشتمل ہے، لہٰذا ایسے اداروں میں ملازمت اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں هوگا، اور اس کی تنخواہ بھی حلال نہیں ہوگى. فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143509200008
تاریخ29-06-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں