بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر اور مریض کے روزہ توڑنے کا حکم

سوال

ایک آدمی دنیاوی ضرورت کے لیے سفر پہ گیا، منزل پہ پہنچ کر شدید پیاس لگنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑ دیا، اس شخص پر صرف قضا لازم ہے یا کفارہ بھی ہو گا ؟​اایک اور آدمی نے گردوں کی تکلیف کی وجہ سے بغیر معالج کے مشورہ کے روزہ توۤڑ دیا اسکے بارے میں کیا حکم ھے؟ 

جواب

اگر سفرِ شرعی ہو یعنی 48 میل یا اس سے زیادہ کی مسافت کا ہو تو اس صورت مین روزہ توڑنے پر صرف قضا لازم ہو گی، کفارہ نہیں۔گردوں کی تکلیف اگر اس نوعیت کی تھی کہ جان کی ہلاکت کا اندیشہ تھا تو اس صورت میں روزہ توڑنے پر صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143509200002
تاریخ15-07-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں