بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں وقت دینا اور بیوی کے حقوق

سوال

ھمارا رشتہ دار ہے اس کا تبلیغی جماعت سے تعلق ہے اور اس کی جوان بیوی ہے اور گھر میں اکثر اوقات وہ نہیں ہوتا اور بیوی ڈرتی ہے ، شوہر کا حال یہ ہے کہ عصر سے عشا بلکہ عشا کے ایک گھنٹہ بعد تک وہ مسجد میں وقت دیتا ہے تو شوہر کے لیے کیا حکم ہے ، آیا وہ بیوی کی دل جوئی کے لیے نماز پڑھ کر فوری طور سے گھر آجائے یا بیوی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تبلیغ میں وقت دے ، برائے مہربانی جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوںجزاک اللہ

جواب

صورت مسئولہ میںشوہر کا مسجد میںوقت دینا ایک بھی ایک نیکی اور خیرکاکام ہے تاہم شوہر کو چاہیے کہ کسی قریبی دارالافتاء سے اس بارے میںرابطہ ومشاورت کرلے کہ کس قدر وقت مسجد میںدیا جائے جس سے بیوی اور اہل وعیال کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143508200010
تاریخ04-06-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں