بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی شوہر کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو تو اس کے نان و نفقہ کا حکم

سوال

میری بیوی ڈھائی سال سے اپنے والدین کے گھر کراچی میں ہے اور میرا ایک بیٹا بھی ان کے پاس ہے ، میری بیوی اور ان کے والدین کے درمیان واپسی کے تقاضے میں نفسیاتی مریض بن گئی ہے ، ڈھائی سال سے لے کر اب تک اس کے والدین اور نہ وہ خود راول پنڈی میرے پاس آنا چاہتی ہے ، ان کا مطالبہ ہے کہ میں کراچی شفٹ ہوجاؤں یا ان کی بیٹی کو کراچی میں گھر لے دوں جبکہ میں راول پنڈی میں پنجاب گورنمنٹ کا گریڈ سولہ کا مستقل ملازم ہوں ، میری عمر سینتیس سال ہے ، میں نے اسے واپس لانے کی کافی کوشش کی ہے پر وہ اور اس کے والدین نے صاف صاف انکار کردیا ہے کہ ہم اسے واپس نہیں بھیجیں گے ، اور نہ خلع کا تقاضہ کرتے ہیں اور مجھے کہا ہے کہ جو چاہو کرو ، میں ایک سال تک اسے خرچ بھیجتا رہا ہوں ، کیا میں بیوی کو ایسی حالت میں جب وہ نفسیاتی مریض ہے اور میں اس کا علاج بھی راول پنڈی میں کروا سکتا ہوں اور اسے واپس بھی لانا چاہتا ہوں نان نفقہ دینے کا پابند ہوں یا نہیں ؟

جواب

مسئولہ صورت میں بیوی اور ان کے والدین کا مطالبہ صحیح نہیں ہے,  نیز جو عورت بلا وجہ شرعی اپنے خاوند کے پاس آباد ہونا نہ چاہے اور شوہر اسے صحیح اور مناسب اور جائز حقوق دے کر آباد کرنے کا مطالبہ کرتا ہو لیکن بیوی آباد نہ ہوتی ہو تو شرعاً اس لڑکی کا اس کے خاوند پر کوئی نان نفقہ واجب نہیں ہوتا،اس لیے سائل کی منکوحہ اپنے شوہر سے اخراجات پانے کی مستحق نہیں تاہم بچے کا نان ونفقہ اس کے والد پر واجب ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143508200009
تاریخ04-06-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں