بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پان ، گٹکا کھانے کا حکم

سوال

همارے ایک ساتهی نے همیں ایک فتوی لا کر دیکهایا اس میں بڑے مدلل انداز میں پان و گٹکا وغیرە اور ایسی تمام چیزوں کو حرام لکها تها آپ حضرات سے درخواست هے صحیح معنوں میں رهنمائی فرمائیں آیا اگر تحقیق سے یه ثابت هوا کے یه حرام هے تو جو پچهلے کچه بزرگوں کا معمول رها تو اس بارے میں مخالفین کو کیا کها جاءے؟

جواب

پان کھانا جائز ہے کیونکہ نشہ آور نہیں ہے لہذا اکابر پر کسی کا اعتراض وارد ہی نہیں ہوتا اوررہا گٹگا تو حکومت نے سخت مضر صحت اشیاء پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی ہوئی ہے ، لہذا مضر صحت ہونے اور ملکی قوانین میں ممنوع ہونے کی وجہ سے اس کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے ۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143507200037
تاریخ18-05-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں