بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مجبوری کی حالت میں سودی قرضہ لینا

سوال

سود واضح طور پر ایک گناہ ہے جس میں کوئی شک و شبہ والی گنجائیش نہیں۔ مجھے سبھی حوالوں میں سود کھانے یا لینے کی ممانعت کے بارے میں معلوم ہے۔ برائے مہربانی اس بارے میں بھی بتائیے گا کہ جو شخص مجبوری کے تحت سود پر قرض لیتاہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں،اگر کسی کو سخت مجبوری اور محتاجی ہے ایسی کہ گذارہ کی بھی کوئی صورت نہ ہو اور بغیر سودکے کہیں سے قرض نہ مل رہا ہو تو ایسی مجبوری میں سود پر قرضہ لینے کی گنجائش ہے، اس صورت میں گناہ سود پر قرض دینے والے کو ہوگا۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143507200030
تاریخ10-05-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں