بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم میراث کی ایک صورت

سوال

صورت مسئلہ یہ ہے کہ والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد میراث تین بیٹوں ار دو بیٹوں میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم ہو چکی تھی۔ اب ان میں سے دو بیٹے اور ایک بیٹی فوت ہو گئے۔ فوت ہونے والے بیٹوں میں سے ایک کی صرف بیوہ ہے اور دوسرے بھائی کے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ بیوی پہلے ہی فوت ہوچکی تھی۔ اب ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہے۔ اب ایسی صورت شریعہ کے اصولوں کے مطابق ورثا کون قرار پائیں گے اور وراثت کس اعتبار سے تقسیم کی جائے گی۔ براہ مہرانی جواب سی جلد مطلع فرمائیں۔ اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔ المستفتی عبداللہ

جواب

اس بات کی وضاحت مطلوب ہے کہ وفات پانے والے بیٹوں اوربیٹی میں کس کاپہلے انتقال ہوا؟ سب کی وفات کی ترتیب کی وضاحت کی جائے۔ نیزوفات پانے والی بیٹی کی اولادہے یانہیں؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143507200027
تاریخ08-05-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں