بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مَردوں کے لیے چاندی اور دیگر دھاتوں کے بٹن کا حکم

سوال

محترم مفتی صاحبالسلام علیکم مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ مرد حضرات کے لئے چاندی کے بٹن کا استعمال شرعا کیساہے نیز یہ بھی بتائیں کہ دوسری دھات کے بٹن کا کیا حکم ہے

جواب

مَردوں کے لیےچاندی کے بٹن کا استعمال جائزہے ، سونے کے بٹن اگرکرتے میں گُندھے ہوئے ہیں تو یہ کرتے کے تابع ہوکر جائز ہے ، اور اگر الگ بنے ہوئے ہیں اور کرتہ میں لگاتے ہیں جیسا کہ آج کل رواج ہے تو ناجائز ہے اس لیے کہ اسصورت میں وہ کرتہ کےتابع نہیں ہوں گےالبتہ ان کے علاوہ دیگر دھاتوں کے بٹن جائز ہیں بشرطیکہ ان میں فساق وفجار کے ساتھ تشبہ نہ ہو، فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143507200015
تاریخ02-05-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں