بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مباشرت کے اداب

سوال

مباشرت کا طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایں کونسی چیزیں جائز ناجائز ہیں ۔ جماع کےاوقات کیا ہیں ایک ماہ کتنی بار کریں چائیے جماع کی مکمل وضاحت کردیں

جواب

مباشرت یا جماع میں صرف اتنا ناجائز ہے کہ بیوی کی دبر یعنی پاخانہ کی جگہ میں اور دوران حیض ونفاس مباشرت نہ کی جائے، یہ بات کہ ایک ماہ میں کتنی بار جماع کیا جائے یہ زوجین کی رغبت قوت،صحت، اور دیگر حالات پر موقوف ہے، شرعا اس کی کوئی تحدید نہیں، البتہ کوئی عذر نہ ہواور بیوی کی طلب ہو تو چار ماہ سے زیادہ تاخیر نہ کرنی چاہیے۔ مباشرت کی مزید تفصیلات، آداب وسنن، حدود وقیود کو تفصیل سے کسی عالم دین سے بالمشافہ سمجھنا زیادہ بھتر ہے یا پھر کوئی مستند کتاب مطالعے میں رکھی جائے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143507200003
تاریخ08-05-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں