بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کے گھر کا کھانا

سوال

السلام علیکم،ایک بندہ ناز پلازا میں ایک دوکان پر کام کرتا ہوں،جس کے پاس کام کرتا ہوں وہ نوجوان لڑکا اہل تشیع ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوپہر کا کھانا اپنے گھر سے لے کر آتا ہے،تو کیا اس طرح اہل تشیع کے گھر سے آیا ہوا کھانا اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں اگر اس کھانے میں حرام اجزاء شامل نہ ہوں تو صرف اہل تشیع ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا حرام نہیں ہوگا،اس کا کھانا اس کے ساتھ بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143506200037
تاریخ21-04-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں