بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میری طرف سے ختم ہے کے الفاظ سے طلاق کا حکم

سوال

میری بیوی اپنے میکے چلی گئی ہے۔ میری خالہ نے مجھے سمجھانے کے لیے بلایا تومیں نے کہا کہ میری طرف سے ختم ہے۔ ایسا میں نے اپنی بہن سے بھی 3/4 بار کہا ہے اوراگر کسی اور سے بھی کہا ہو تو مجھے یاد نہیں ہے۔ اس بات کو 8 سے 9 ماہ ہوچکے ہیں، بیوی ابھی بھی اہنے میکے میں ہے۔ شادی کے بعد سے اب تک کئی بار بیوی سے کہا کہ میں طلاق دے دونگا یا چھوڑ دونگا۔ کیا اب بھی وہ میرے نکاح میں ہے؟ اگر میں اس کو واپس لانا چاہوں تو شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب

صورت مسولہ میں "میری طرف سے ختم ہے" یہ الفاظ ادا کرتے وقت اگر طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا ہے، باھمی رضامندی سے نیا مھر مقرر کرکے عدت میں اور عدت کے بعد بھی دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔ باقی طلاق دےدونگا یا چھوڑ دونگا کہ الفاظ طلاق کی دھمکی کے ہیں ، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143506200029
تاریخ06-04-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں