بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موجوده حالات ميں خوف كي وجه سے مسجد ميں باجماعت نمازچھوڑنے كاحكم

سوال

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ :کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ادام اللہ فیوضہم :کیاموجودہ بے یقینی کے حالات میں اس بناء پر کہ ذہن میں یہ تشویش ہو:کہ مسجد میں اگر جماعت کے ساتھ نماز پڑوں گا تو کہیں دھماکہ نہ ہو جائیں یا شیعہ وغیرہ گھس قتل نہ کرے ، جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں ، جب تک ملکی حالات پر امن نہ ہو؟

جواب

الله تعالي كي ذات پر مكمل ايمان ركھتے هوءے نمازباجماعت مسجد ميں ادا كي جاءے، رسول الله صلي الله عليه وسلم نے عين ميدان جنگ ميں بلكه دشمنوں كے يك دم حملے كے خطرے كے وقت بھي (ميدان جنگ ميں) نماز خوف باجماعت ادا فرماءي هے اورہمیں اپنے نبوی کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جان کی حفاظت کا خوف طاری کرکے ہمیں مستقل نماز باجماعت سے محروم کردے۔. فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143506200028
تاریخ06-04-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں