بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی رقم کا مصرف

سوال

گیس کمپنی سے انڈسٹریل کنکشن لینے کے لیے زر ضمانت بنک میں جمع کروایا تھا اس رقم پر سود ملنے لگا جس کو ایک الگ اکاؤنٹ میں رکھ دیا ہے بنک کے حوالے نہیں کیا تاکہ بغیر ثواب کی نیت کے کسی مناسب جگہ استعمال کر دیں۔ شرعی اعتبار سے کیا یہ کام صحیح ھوا؟ ھماری نیت قطعا سود میں ملوث ہونے کی نہیں تھی۔

جواب

سائل کے لیے شرعاً ضروری تھاکہ زرضمانت پرسود کی جو رقم مل رہی ہے وہ اسے اکاؤنٹ میں رہنے دیتااور نہ لیتا، اسے نکال کر الگ اکاؤنٹ میں رکھنایا کسی صورت میں استعمال کرنا صحیح نہیں تھا۔ تاہم اب جب کہ وہ سود کی مذکورہ رقم کونکال کر الگ اکاؤنٹ میں رکھ چکاہے تو اس کا مصرف یہی ہے کہ ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحق غریب شخص کودے دے۔ اور اللہ سے سچے دل سے توبہ واستغفارکرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143505200013
تاریخ18-03-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں