بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ

سوال

السلام علیکم، مجھے میرے والد کا ورثہ ملا ہے جس میں کچھ رقم کاروبار میں لگائی ہے جس سے مجھے نفع ملتا ہے اور اس سے گھر کا خرچہ چلتا ہے اور کچھ رقم جمع بھی کرتی ہوں اور کچھ رقم میں نے اپنے شوہر اور بیٹوں کو دی ہے۔ برائے مہربانی آپ مجھے بتائیں کہ مجھے نفع پر زکوٰۃ دینی چاہیے یا ورثہ کی پوری رقم پر دینی چاہیے؟

جواب

کاروبار میں لگائی ہوئی رقم، اس سے حاصل شدہ نفع جو جمع کیا ہے اور جو رقم شوہر اورییٹوں کو دی ہے ان سب پر زکواۃ ہے۔بشرطیکہ سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔اگر شوہر اور بیٹوں کو تحفہ کے طور پر رقم دی ہے تو اس پر زکواۃ نہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143505200008
تاریخ18-03-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں