بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایڈوانس بیلنس لینے کاحکم

سوال

بیلنس کے ختم ہونے پر جو ایڈوانس لیا جاتاہے پھر واپس سروس چارجز کے نام پرزیادہ وصول کیاجاتاہے وہ جائز ہے یانہیں؟ بنوری ٹاون کے بارے میں دونوں فتوے لوگوں سے سنے ہیں، آپ بتادیں کہ کون سا ٹھیک ہے جواز کا یا سود ہونے کا؟

جواب

موبائل کمپنی اگررقم خدمت مہیا کرنے کے عوض وصول کرتی ہے تو جائز ہے، اوراگر قرض دے کر اس کا عوض وصول کرتی ہے تو سود ہے۔
فتووں کا اختلاف اس وجہ سے ہوا کہ کمپنی نے مختلف اوقات میں مختلف وضاحت دی ، جس کی وجہ سے دارالافتاء کا جواب بھی مختلف ہوا۔خلاصہ یہ ہےکہکمپنیاگر پیشگی اجرت وصول کرنے کی صورت میں ایئر ٹائم سستا دیتی ہے اور جو صارف پہلے ایئر ٹائم استعمال کرلے اور پھراجرت اداء کرے تو اسے مہنگا دیتی ہے اگر فرق اس وجہ سے ہے تو جائز ہے اور اگر صارف پر واجب الاداء اجرت میں اضافہ کرتی ہے تو ناجائز ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143505200006
تاریخ18-03-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں