بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کے قطروں کے مریض کے لیے نمازوں کی قضا کا حکم

سوال

مجھے کافی عرصے سے شک تھا اور اب یقین کے ساتھ علم ہوا ہے کہ مجھے پیشاب کے قطرے آنے کی شکایت ہے۔ سوال یہ یے کہ مجھے کتنے عرصے کی نمازیں لوٹانی ہونگی؟

جواب

اگرسائل شرعی معذورہے (یعنی جب یہ شکایت شروع ہوئی تو اس وقت ایک فرض نماز کی ادائیگی کے برابروقت بھی پیشاب کے قطرے نہیں رکتے تھے اوراس کے بعد بھی تاحال قطرے جاری ہیں اورکسی نمازکا وقت پاکی کی حالت میں نہیں گزرا) اور سائل ہرنماز کے وقت وضوکرتارہاہے تو اسے نمازوں کی قضا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ سائل شرعاً معذورہے۔ اور اگر سائل شرعی معذور نہیں ہے اور ناپاکی کی حالت یا ناپاک کپڑوں میں نماز ادا کرتارہاہے تو اندازہ کرکے غالب گمان کے مطابق جب سے یہ شکایت ہے اتنی نمازوں کی قضا کرلے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143505200004
تاریخ18-03-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں