بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جن نمازوں میں امام کے پیچھے قرات کی ان کا حکم

سوال

السلام علیکم، جب ہم امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں تو اس وقت ہم قرات کے وقت خاموش رہنا ہوتا ہے اور 2 رکعت کے بعد بھی جو قرات ہوتی ہے اس میں بھی خاموش رہنا ہوتا ہے، لیکن مجھے اس بات کا پتہ نہیں تھا میں 2 رکعت کے بعد سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرتا تھا اور اسی طرح ظہر اور عصر کی نماز میں بھی ساری رکعتوں میں خود پڑھتا تھا امام کے پیچھے بھی جب مجھے پتہ چلا تو میں نے پڑھنا چھوڑ دیا۔ اب جو میری گزشتہ نمازیں ہیں مجھے دوبارہ پڑھنی پڑیں گی یا پھر نہیں؟

جواب

بس آئندہ امام کے پیچھے پڑھنے سے پرہیز کریں۔جو نماز پڑھ چکے ہیں وہ لوٹانی کی ضرورت نہیں وہ ادا ہوچکی ہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143504200034
تاریخ25-02-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں