بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی لقمہ دے اورامام قبول نہ کرے تو مقتدی کی نماز کاحکم

سوال

وہ کون سا ایسا مسئلہ ہے؟کہ مقتدی لقمہ دے دے اور امام اس کا لقمہ نہ لے تو مقتدی کی نماز فاسد ہو جاتی ہے؟

جواب

آپ نے پہیلیاں بوجھنا شروع کردی ہیں،مگر فقہاء کرام کو اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اس موضوع پر بھی کتابیں لکھی ہیں ،خود ہمارے جامعہ کے استاذ حضرت مولانا مفتی ولی درویش صاحب مرحوم کی تصنیف اس بارے میں متداول ہے۔اس قسم کے مسائل سے دلچسپی رکھنے والے اسے ملاحظہ کرکے اپنے شوق کی تسکین کرسکتے ہیں۔آپ کے سوال کا براہ راست جواب یہ کہ جب مقتدی بغیر ضرورت کے اپنے امام کو لقمہ دے اور امام قبول نہ کرے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے مگر خیال رہے کہ یہ مرجوح قول ہے اور فتوی اس پر نہیں ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143504200017
تاریخ14-02-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں