بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقتدی کے بھول کراضافی رکعت پڑھنے کاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءے دین ؟ ایک شخص امام کے ساتھ مکمل نماز میں شریک تھا ، اور امام کے سلام کے بعد یہ سمجھتے ہوئے کہ میری کوئی رکعت رہ گئی اٹھ کھڑا ہوا جب اس رکعت کا رکوع کیا تو اسے احساس ہوا کہ اس کی کوئی رکعت نہیں رہی تھی، اس صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے ؟ نیز اگر یہی صورت سجدے کے بعد پیش آئے تو کیا حکم ہے ؟

جواب

اگراضافی رکعت کے سجدہ سے پہلے یاد آجائے توواپس قعدہ﴿تشہد کی حالت﴾ کی طرف لوٹ آئے اورسجدہٴ سہو کرے۔ اوراگر اضافی رکعت کےسجدے میں یاسجدے کے بعد یاد آئے تو ایک اور رکعت ملالے، یہ اضافی دو رکعات نفل، جب کہ امام کی اقتدا میں اداکی گئیں رکعات فرض شمار ہوں گی، تاہم اس صورت میں بھی آخرمیں سجدہٴ سہو کرناہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143504200008
تاریخ08-02-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں