بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض ادا کرنے کا گناہ کس کے ذمے ہوگا؟

سوال

السلام علیکم زید نے بینک سے قرضہ لےکر بکر کو کاروبار میں انویسٹ کرنے کیلیے دیا۔ کاروبار میں نقصان ہوگیا،اب بکر زید کوہرماہ اتنی رقم دیتاہےجس سےوہ بینک سےلیےہوےقرض کی ماہانہ قسط اداکرسکے، یہ رقم بکر تب تک دیگا جبتک کہ وہ زید سے لی ہوئی رقم واپس نہیں کر دیتا۔صورت مذکور میں بینک سے لی ہوئی رقم پر ماہانہ شرح سودکی ادائیگی کا گناہ کس کے سر ہوگا زیدکےسریابکر کےسرپر؟

جواب

بینک سے لی ہوئی رقم پرشرح سود کی ادائیگی کاگناہ اسی شخص پرہوگا جس نے سودی معاہدہ کرکے یہ رقم حاصل کی تھی اور اسی معاہدے کے تحت ادائیگی بھی کررہاہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143504200003
تاریخ08-02-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں