بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میسیج میں علامتی خاکوں کا حکم

سوال

ایس ایم ایس میں جو مسکراہٹ کے علامتی نشان بھیجے جاتے ہیں ان کا بھیجنا کیسا ہے؟ کیا ان پر تصویر کا اطلاق ہوگا؟ یا ایس ایم ایس میں مختلف خاکے بھیجے جایئں ان کیا حکم ہے؟

جواب

کسی خاکے یا علامت کے بھیجنے میں معیار یہ ہے کہ جس نشان ،خاکے یا علامت سے جان دار کی حکایت ہورہی ہو اس کا بھیجنا درست نہیں اور جس سے جاندار کی حکایت نہ ہورہی ہو وہ جائز ہے۔عام طور طور خاکوں سے جاندار کی حکایت نہیں ہوتی مگر چونکہ خاکے مختلف ہوتے ہیں اس لیے ہم نے شرعی ضابطہ اور کسوٹىبتادی ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143504200001
تاریخ08-02-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں