بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاعلمی میں حرام کھانے کا حکم

سوال

سوال یہ ہے کہ شوپ پر بیچنے والے نے حرام جانور کا گوشت یا ان کی کوئی اشیاء کھلادی ، بعد میں پتہ چلا کہ فلاں شوپ پر حرام گوشت کی اشیاء بیچی جاتی ہیں ، انجانے میں کھائی ہوئی یہ حرام گوشت کا کیا حکم ہے؟اور دعا کی قبولیت کا کیا حکم ہے،الظاھر ان الذین یاٗکلون مثل ھذہ الاشیاء وھم یعلمون لایأثمون کے تحت اگر گنہگار نہ مانا جائے تو حجاج بن یوسف نے جو علماءکو حرام چیزکھلاکر اپنے کو علماءکی بددعاءسے محفوظ کرلیا تھا۔ان کا کیا جواب ہوگا؟

جواب

لاعلمی میں حرام کھانے کی وجہ سے آدمی گناہگار نہیں ہوگا البتہ اس کے روحانی اثرات ضرور مرتب ہونگے، دعاؤں کی عدم قبولیت بھی اسی کا اثر ہے۔ سائل نے حجاج کے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے اس کا جواب بھی اس قاعدہ سے واضح ہے ۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143503200029
تاریخ22-01-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں