بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثت کے گھر میں کسی ایک وارث کا رہنا

سوال

السلام علیکم، امید ہے آپ حضرات خیریت سے ہیں۔ میرا نام محمد معاذ ہے اور میں امریکا میں رہتا ہوں، مجھے ایک مسئلہ وراثت سے متعلق دریافت کرنا ہے، ہم لوگ کراچی میں اپنے نانا کے گھر میں بچپن سے رہتے آئے ہیں، نانا کا انتقال 1991 میں اور نانی کا انتقال 2006 میں ہوا۔ دونوں کے انتقال کے وقت کوئی وصیت نہیں تھی۔ نانا کے 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں اور سب حیات ہیں، الحمد للہ۔ سارے بہن بھائی امریکا میں رہتے ہیں، سوائے میری والدہ کے۔ نانی کے انتقال کے بعد سارے بہن بھائیوں نے میری والدہ کو گھر میں رہنے کی اجازت دی اور گھر اس لیے فروخت نہیں کیا تاکہ پاکستان میں سب کا ایک گھر ہو۔ میرے والدین اور بھائی اس وقت اس گھر میں مقیم ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے والدین اور بھائی کا اس گھر میں رہنا شرعا صحیح ہے یا نہیں؟ یا پھر اس گھر کو فروخت کر کے حاصل شدہ رقم کو شرعا تقسیم کیا جائے؟ جزاک اللہ

جواب

اگر سائل کے نانا مرحوم کے کسی وارث کو اس مکان میں آپ کے والدین اور بھائی کے رہنے پر کوئی اعتراض نہیں تو شرعا بھی اس میں کوئی حرج نہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143503200023
تاریخ17-01-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں