بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کے لیے قراءت کاحکم اور حرمین شریفین میں عورتوں کی نمازباجماعت کامسئلہ

سوال

السلام علیکم ورحمه الله وبرکاتهبعد سلام مسنون مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ سری اور جہری نمازوں میں مقتدی کی قرآت کا کیا حکم ہے؟اور حرم شریف میں عورتوں کی اقتدا کی نیت کے بارے میں وضاحت مطلوب ہے کہ آیا عورت اپنی نماز اکیلے پڑھے یا جماعت کے ساتھ پڑھے؟ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو والسلام ام احمد

جواب

سری اورجہری دونوں نمازوں میں مقتدی کے لیے حکم یہ ہے کہ قراءت کے وقت وہ خاموش رہے امام کی قراءت اس کی بھی قراءت ہے۔ حرمین شریفین میں عورت حرم میں ہو تو باجماعت نماز پڑھے مگر عورتوں کے لیے مخصوص جگہوں میں پڑھے ، ایسا کرنا انتظامی اور دینی دونوں لحاظ سے بہتر ہے . نیت کا ذکر کرکے سائلہ کامقصد شاید محاذات کے مسئلے کے متعلق سوال کرناہے، مگر اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں،اگر لازمی طور پرآگاہی چاہیے تو دوبارہ سوال کرکے معلوم کرلیاجائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143503200014
تاریخ11-01-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں