بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آغاخان بورڈ سے منسلک تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کرنے کاحکم

سوال

آغاخان بورڈ سے منسلک کسی بھی تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کرناکیساہے؟

جواب

تعلیم کے جواز وعدمِ جواز کاتعلق معلمین، نصابِ تعلیم اور طریقہ تعلیم سے ہے۔ اگرنصاب درست ہو،معلمین غلط ذہنیت کے نہ ہوں،  یعنی طلبا کو دین سے منحرف کرنے اور اسلام کے علاوہ کسی مذہب سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں اور ماحول بھی شرعی ہو یعنی کوئی خارجی عارض بھی نہ ہوتو ایسے بورڈ سے تعلیم حاصل کرنا جائز ہے اگر چہ وہ کوئی بھی بورڈ ہو کیونکہ معیار بورڈ کا اپنا یا ان کا ہونا نہیں بلکہ مذکورہ شرائط پر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143502200001
تاریخ22-12-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں