بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انسانی اعضاء وقف کرنے کی وصیت کرنا

سوال

جناب مفتی صاحب،کیا اسلام ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے اعضاء (دل،جگر اور گردہ) کو بعد مرنے کے عطیہ کرنے کی وصیت کر سکتے ہیں؟ اور کیا اپنی زندگی میں گردہ کسی اور جیسے غیر کو عطیہ کر سکتے ہیں؟

جواب

انسانی اعضاء انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں،انسان کو اس میں کسی قسم کا تصرف کرنے یا عطیہ کرنے کا اختیار نہ زندگی میں ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد،لہذا وہ اپنی زندگی میں یا اپنے مرنے کے بعد اپنے اعضاء کسی اور کے لئےعطیہ کرنے کی وصیت نہیں کر سکتا۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143501200025
تاریخ18-11-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں