بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تحلیل کی غرض سے نکاح کا حکم

سوال

کیا حلالہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے ؟ رھنمائی فرمائیں، نیز یہ حلالہ سینٹر جو آج کل چل رہے ہیں کیا وہ جائز ہیں ، ایسی خواتین کی خاندانی اور معاشرتی زندگی ناخوشگوار ہو جاتی ہے تو ایسے میں وہ کیا کریں؟

جواب

واضح رہے کہ جس عورت کو طلاق مغلظہ یعنی تین طلاقیں واقع ہوجائیں تو قرآن کریم اور احادیث مقدسہ کی رو سے اس عورت کا اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ پہلے شوہر کی عدت گزرجانے کے بعد اس عورت کا کسی اور جگہ نکاح نہ ہوجائے اور وہ دوسرا شوہر حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اس کو طلاق  دے دے یا اس شوہر کا انتقال ہوجائے، پھر اس دوسرے شوہر کی عدت بھی  گزرجائے تو اب سابقہ شوھرسے نکاح جائز ہے۔

البتہ  سابقہ شوہر کے لیے حلال کرنے  کی شرط لگاکر  نکاح کرنے والے اور کروانے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے  اگرچہ اس کے باوجود بھی عورت اپنے سابقہ شوہر کے  لیے حلال ہوجائے گی، اس لیے  کہ نکاح کے جائز ہونے کے لیے جو شرط تھی وہ  بہرحال پائی جا رہی ہے،  اس سے معلوم ہوا کہ حلالہ کو  باقاعدہ پیشہ بنانے والے حدیث کی رو سے لعنت کے مستحق ہیں ۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143501200022
تاریخ07-11-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں