بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض دار کو قرض خواہ کا پتہ نہ چل سکے تو قرضہ کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟

سوال

میرا سوال یہ ھے کہ مجھ پر کچھ دکانداروں کا اور کچہ دوستوں کا قرض ہے ،اب مجھے وہ قرضہ اداکرناھے۔ تمام لوگوں کاقرضہ مجھے یاد نہیں ہے کہ کتنا ہے لیکن اندازہ کے مطابق جمع کیا جائے تو چار ہزار کی رقم بنتی ہے، اب ان لوگوں کو تلاش کرنا مشکل ہے، تو یہ قرض کیسے ادا کیا جائے؟ اگر ان کی طرف سے صدقہ کی نیت کرکے ادا کیا جائے تو کیا قرضہ ادا ہوجائیگا؟

جواب

پہلے تو ان لوگوں کو تلاش کریں جن کی رقم سائل کو ادا کرنی ہے، تلاش کے باوجود بھی نہ ملیں تو پھر ان کی طرف سے قرض کے بقدر رقم صدقہ کردیں، اور بالفرض بعد میں ان قرض خواہوں میں سے کوئی مل جائے اور وہ اس صدقہ کی اجازت نہ دے تو اسکی رقم اس کوواپس کرنا ہوگی۔ اس صورت میں وہ صدقہ سائل کی طرف سے ہوجائیگا۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143501200019
تاریخ26-11-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں