بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح سے پہلے لڑکی کو دیکھنا

سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب، مجھے یہ پوچھنا تھا کہ منگنی کے وقت لڑکے کو لڑکی کے دیکھنے کی کس حد تک اجازت ہے؟ اگر لڑکے کے والدین نے لڑکی دیکھ لی ہو تو پھر بھی لڑکے کو لڑکی دیکھنے کی اجازت ہے؟ اور اگر لڑکے نے لڑکی کی تصویر دیکھ لی ہو تو کیا پھر بھی وہ اس کو سامنے دیکھ سکتا ہے ایک مرتبہ؟

جواب

جب کسی جگہ نکاح کرنے کا پختہ ارادہ ہو تو نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کا ایک دوسرے کو ایک مرتبہ براہ راست دیکھ لینا بہتر ہے، حدیث شریف میں اس دیکھنے کو شادی کے بعد محبت کا سبب بتایا گیا ہے۔ لیکن یہ دیکھنا شرعاً ضروری نہیں، صرف گھر کی خواتین دیکھ لیں تو یہ بھی کافی ہے۔ البتہ تصویر کی شرعاً نہ تو کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی اجازت۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143501200004
تاریخ07-11-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں