بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقاب پہن کر تصویر کھنچوانا

سوال

اگر کوئی شخص نقاب کی طرح  چہرے پر کپڑا باندھ لے،   اس طرح  کہ صرف آنکھیں دکھیں تو اس صورت میں تصویر کھنچوانا کیسا ہے؟

جواب

جو تصویر انسان کی حکایت کرے وہ شرعًا ممنوعہ تصویر کے حکم میں داخل ہے،  لہٰذا اگر کسی انسان کی کمر کی جانب سے تصویر  لی جائے، جس میں چہرے کے نقوش  ظاہر نہیں ہوتے، تو بھی یہ تصویر کہلائے گی، اور جان دار کی تصویر کشی ناجائز ہے، اسی طرح اگر صرف چہرے والے حصے کی تصویر کھینچی جائے نچلے دھڑ کی تصویر نہ ہو تو بھی تصویر کشی کی ممنوعہ صورت میں داخل ہوکر ناجائز ٹھہرے گا۔ اس تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ چہرے پر نقاب یا ماسک وغیرہ لگاکر کھیچنی جانے والی تصویر بھی شرعًا ممنوعہ تصویر ہوگی، لہٰذا اس سے اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143412200031
تاریخ01-11-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں