بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے کہنے پر داڑھی کاٹنا جائز نہیں

سوال

کیا ماں کے کہنے پر داڑھی ایک مٹھی سے کم رکھنا جائز ہے؟ اور حکم نہ ماننے پر میں حقوق والدین ادا نہ کرنے کا گناہ گار تو نہیں ہوں گا؟

جواب

والدین اگر کسی ناجائز اور شریعت کے خلاف کام کرنے کا حکم دیں تو اس حکم کو ماننا شرعا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: و ان جاھداک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما و صاحبھما فی الدنیا معروفا۔ سورۃ لقمان: 15 لہذا آپ کے لیے والدہ کے حکم پر داڑھی مونڈنا یا ایک مٹھی سے کم کروانا قطعا جائز نہیں ہے، اور اس سے آپ گناہ گار یا والدہ کے نافرمان بھی شمار نہیں ہوں گے۔ البتہ اس معاملہ میں بھی والدہ کے ساتھ نرمی اور احترام کا برتاؤ رکھا جائے، ان کے ساتھ سختی یا بدتمیزی ہرگز نہ کی جائے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143412200028
تاریخ29-10-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں