بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پراویڈنٹ فنڈ اور پوسٹل لائف انشورنس

سوال

السلام علیکم میں ایک سرکاری ملازم ہوں ،ہمیں پنشن کے وقت جی۔پی فنڈ ،پروویڈنٹ فنڈ ملتا ہے۔اکثر لوگ اس کو سود کہتے ہیں،ہمیں جو ادائیگی کی رسید ملتی ہے اس پر بھی جی پی فنڈ سود لاگو ہے لکھا ہوتا ہے۔ آیا اس کا لینا ٹھیک ہے یا نہیں کہ کچھ حضرات لینا جائز کہتے ہیں اگر یہ کٹوتی ملازمین کی مرضی سے نہ ہو تو،اگر لینا جائز ہے تو پھر پوسٹل لائف انشورنس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جی پی فنڈ اور پروویڈنٹ فنڈ جس کی کٹوتی ملازمین کی مرضی سے نہ ہوتی ہو اس کی اصل رقم بمع اضافی رقم کے لینا جائز ہے۔اور جہاں کٹوتی اختیاری ہو وہاں سودی معاہدہ کا گناہ بھی ہوگا اور اضافی رقم لینا بھی درست نہیں ہوگا۔ البتہ پوسٹل لائف انشورنس جائز نہیں ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143412200026
تاریخ29-10-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں