بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم سے والدین کا علاج کرانا

سوال

السلام علیکم،میرا سوال زکاۃ سے متعلق ہے،ہم پانچ بھائی ہیں 3 کی شادی ہو چکی ہےتو وہ الگ گھر میں رہتے ہیں۔ہم دو بھائی اور ایک چھوٹی بہن ساتھ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور دونوں ملازمت پیشہ ہیں اور صاحب نصاب نہیں ہیں جتنا کماتے ہیں اس میں الحمد للہ گذارا ہو جاتا ہے لیکن والدہ کے علاج کے لئے پیسے دوسرے بہن بھائیوں سے مانگنے پڑتے ہیں۔ کیا زکاۃ لے کر والدہ کا علاج کرا سکتے ہیں؟

جواب

سائل اگر واقعۃ صاحب نصاب نہیں ہے تو زکاۃ کی رقم لینا اور اس سے والدہ کا علاج کرانا درست ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143412200017
تاریخ26-10-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں