بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق كلما كا حل

سوال

كيا طلاق كلما كا كوئ حل هےاگر هے تو کیا هے؟

جواب

ایسا شخص جس نے کلّما کی قسم کھالی ہو کی خلاصی کی ایک ہی صورت ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے کہے بغیر اس کا نکاح کرادے اور پھر یہ قسم کھانے والا شخص زبانی قبول کے بجائے عملا اس نکاح کو نافذ کردے مثلا مھر کی ادائیگی کردے،اس ظرح اس کا نکاح بھی ہوجائیگا اور طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143411200021
تاریخ03-10-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں