بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

واقف کا وقف کردہ زمین فروخت کرنا

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے عید گاہ کیلے زمین وقف کردی علائقے کے لوگ دس بارہ سال سے اسی وقف شدہ عیدگاہ پہ عیدنماز پڑھ رہے ہیں۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ جگہ کافی تنگ ہوچکی ہے۔ کچھ فاصلے پرزیدکے بیٹے حارث کی اپنی ذاتی زمیں ہے جو کہ پرانی عیدگاہ سے رقبے کے لحاظ سے کچھ بڑی ہے۔ زید علائقے کے لوگوں سے اپنی ذاتی ملکیت عیدگاہ کے لیے وقف کرناچاہتاہے۔ اور پرانی عید گاہ پے پلاٹینگ وغیرہ کرکے فروخت کرناچاہتاہے۔ مہربانی کرکے اس مسئلے کو شریعت کے مطابق بتائیں کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے۔

جواب

وقف کردہ زمین میں واقف کے اختیارات اب ختم ھوچکے، لہذا اب اس میں کسی قسم کی تبدیلی، فروخت وغیرہ جائز نہیں ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143411200010
تاریخ22-09-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں