بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعہ زنا کاثبوت

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا زنا کا جرم جدید آلات سے جیسے DNA ٹیسٹ وغیرہ سے ثابت کیا جاسکتا ہے؟ برائے کرم مجھ کو اسلامی فقہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماویں۔

جواب

شریعت مطھرۃ نے زنا کے ثبوت کے لیئے چار گواھوں یا ازخود چار مرتبہ اقرار کاضابطہ مقرر کیا ھے اور اسی سے اس کا ثبوت معتبر ھے، DNA وغیرہ کے ذریعہ اس کا ثبوت شرعا معتبر نہیں ھے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143411200008
تاریخ22-09-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں