بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی بکوانے پر کمیشن لینا

سوال

السلام علیکم،مفتی صاحب عرض یہ کرنا تھا کہ جو لوگ گاڑیوں کاکام کرتے ہیں تو ان کے یہاں یہ بات طے ہوتی ہے کہ جس نے گاڑی بکوائی تو وہ مالک سے ۵۰۰۰ روپے لے گا اور جس کو دلوائی اس سے بھی اتنے ہی لے گا،تو اس طرح پیسے متعین کرنا صحیح ہے، اور ایک اصول یہ بھی ہے کہ جس کی دوکان پر گاڑی کھڑی کر کے بیچی ہے اس شو روم والے کو بھی متعین پیسے دے گا،تو کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں گاڑی بکوانے والا جو رقم فروخت کنندہ اور خریدار سے وصول کرتا ہے وہ اس کا کمیشن ہوتا ہے،اور کمیشن میں متعین رقم طے کرنا درست ہے،نیز جس کی دوکان پر گاڑی کھڑی کر کے بیچی جا رہی ہے وہ جومتعین رقم کا مطالبہ کرتا ہے وہ اس کی دوکان استعمال کرنے کا کرایہ ہوتا ہے اور اس رقم کو متعین کرنے میں بھی شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143410200037
تاریخ01-09-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں