بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حجامہ کی شرعی حیثیت

سوال

السلام علیکم پوچھنا یہ تھا کہ حجامہ کروانا کیسا ہے؟ ھمارے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ ایک عالم نے اس کو منع فرمایا ہے اور کہا ہے کہ یہ متروک سنّت ہے۔ حجامہ تقریبا سب دیندار حلقوں میں عام ہورہا ہے، برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں؟

جواب

حجامہ کو متروک کہنے سے مراد اگر یہ ہے کہ لوگوں نے اس کو ترک کردیا ہے تو یہ بات درست ہے کہ ایک زمانہ تک لوگوں میں علاج کا یہ طریقہ ترک ہوچکا تھا اب دوبارہ رواج پا رہا ہے اور اگر مراد یہ یے کہ یہ سنّت ہی منسوخ ہوچکی ہے تو یہ بات درست نہیں اس لیئے کہ حجامہ کے کے منسوح ہونے کی کوئ دلیل موجود نہیں جبکہ اس کے برعکس اس پر عمل اور ترغیب کی روایات بکثرت ملتی ھیں۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143410200033
تاریخ30-08-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں